Ishq-e-Aajiz By Sanwali Aelaa Episode 1 Part 2

عشقِ عاجز۔۔۔
قسط نمبر 1 پارٹ (2)
نہیں پھوپھو بس دیر ہو رہی ہے پھر کبھی۔۔۔ زاویار نے کہا۔۔
زائرہ بھی تیار ہو کر باہر نکلتے ہی زاویار کو سلام کرتی ہے اور نایاب اور کائنات سے مل کر جانے لگتی ہے کہ کائنات اسے روکتی ہے ہمارے ساتھ آجاؤ بھائی تمہیں ڈراپ کر دے گا۔۔ زائرہ نے مڑ کر اور زاویار نے حیرت سے کائنات کو دیکھا ۔۔
نہیں میں خود چلی جاؤنگی ۔۔
زاویار تو کائنات کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا کیونکہ وہ کبھی کسی بھی لڑکی کو اپنی بہنوں کے سوا اپنے ساتھ نہیں لے جاتا تھا اور یہ بات کائنات جانتی تھی
آجاو ہم ڈراپ کر دیں گے۔۔ زاویار نے مجبوراً کہا
راحیلہ بیگم نے بھی کہا ہاں زائرہ انکے ساتھ ہی چلی جاؤ ۔۔ کہاں بس کے انتظار میں دھکے کھاتی پھرو گی؟
مگر جانا کہاں ہے؟ زاویار نے پوچھا
جاب ڈھونڈنے ۔۔
مگر جاب کس لیے؟؟ ابو نے کہا تو ہے وہ ساتھ دیں گے آپ لوگوں کا۔۔ اور میں بھی مدد کرتا رہوں گا تو جاب کرنے کی کیا ضرورت؟
زاویار نے طنزیہ سوال سنایا تو زائرہ کو مگر پوچھا اپنی پھوپھو سے۔۔
ہم کب تک کسی پہ بوجھ بنیں گے۔۔ ماموں کی اپنی بھی فیملی ہے ۔کس کس چیز کا زمہ لیں گے وہ؟؟ زائرہ بولی
آپ لوگ جائیں میں چلی جاؤنگی ۔ کہتے ہی اس نے پرس اٹھایا اور باہر جانے لگی کہ راحیلہ بیگم کی آواز پر رکی
۔
زائرہ انکے ساتھ ہی جانا ورنہ مت جانا!!
یہ سنتے ہی زائرہ کو مجبوراً انکے ساتھ گاڑی میں بیٹھنا پڑا
کائنات اور نایاب بھی خوش ہو گئی۔۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی زاویار نے پوچھا ۔۔۔ ڈراپ کہاب کرنا ہے؟؟۔ زائرہ نے موبائل سے لوکیشن نکال کر ایک مال کی لوکیشن دی جو کل اس نے سرچ کی تھی۔ زاویار نے جگہ دیکھ کر موبائل واپس زائرہ کو دیا یہ وہ موبائل تھا جو زائرہ سے پہلے اسکے پاپا استعمال کرتے تھے۔۔۔ موبائل کو دیکھ کر زائرہ کی آنکھیں بھیگی مگر اس نے کسی کو پتا نا چلنے دیا اور آنکھیں پونچھ لی۔۔
آگئی وہ جگہ۔۔۔ زاویار بولا۔۔
زائرہ گاڑی سے نیچے اتر کر شکریہ کہتی چل پڑی
اور زاویار زن سے گاڑی آگے بھگا لے گیا
آج خیر نہیں تمہاری ۔۔ نایاب نے کائنات کے کان میں کہا۔۔
زائرہ جو کہ 5 فٹ چھ انچ یعنی دراز قد سانولی رنگت درمیانے کالے بال ، کالی موٹی اور گہری آنکھیں ، دبلی پتلی مختصر یہ کہ پرکشش شکل و صورت کی مالک تھی۔
بلڈنگ کے باہر کھڑی شاپنگ مال کا نام پڑھ کر آگے بڑھ جاتی ہے ۔۔ انٹریو دینے کے بعد مینیجر زائرہ کو ہدایت دیتا ہے کہ آپکو رکھ تو لیا ہے لیکن آپکی سیلری پندرہ ہزار ہو گی اوکے سر ۔۔ کہہ کر وہ وہاں سے اٹھ گئی دراصل یہ شاپنگ سینٹر کا سیکنڈ فلور تھا جہاں زائرہ نے انٹرویو دیا تھا اور یہاں اسے ایک نان فووڈ سیلر کا کام کرنا تھا۔ ۔۔
گھر پہنچتے ہی اسکی ماں نے پانی کا گلاس زائرہ کو دینے کے بعد اسکے دن کا احوال پوچھا
مما جاب تو مل گئی ہے پر سیلری کم ہے پانی پی کر اس نے بتایا۔۔
کتنی ہے؟؟
پندرہ ہزار۔۔۔
یہ تو کوئی اتنی سیلری نہیں ۔۔
مگر میں جاب کرونگی ۔۔ مگر میں جاب کرونگی ۔ مجھے اس جاب کی ضرورت ہے کچھ نا کچھ تو ہم اپنی مدد خود کریں گے مما۔۔
تمہارے ماموں غصہ کریں گے راحیلہ بیگم نے زائرہ کو سمجھانا چاہا ۔ مگر وہ ماننے کو تیار نا تھی وہ کسی ہر بوجھ نا بنے اس لیے چاہتی تھی کہ کچھ ہاتھ پیر وہ لوگ خود بھی ماریں۔۔ مما آپ بیمار رہتی ہیں اور آئرہ کی فیس بھی ہے سب اخراجات کیسے پورے ہونگے ۔۔ سوچیے تو سہی
ماموں برا مانیں یا غصہ کریں یہ جاب کرنا میری مجبوری ہے اور میں یہ کرونگی میں ماموں کو سمجھا لونگی آپ فکر نہیں کریں ۔۔ یہ کہتے ہی زائرہ گلاس میز پر رکھ کر اندر چلی جاتی ہے اور راحیلہ بیگم وہیں کھڑی سوچتی رہتی ہیں کہ آگے نا جانے کیا ہو گا
آئرہ زائرہ نے آواز دی
آئری بات سنو۔۔ کہاں ہو یار بات سنو میری
میری جاب لگ گئی۔۔ میں کل سے جاب پر جاؤنگی آئری کہاں ہو یار ۔۔
میں یہاں ہوں آپی۔۔ ائرہ نے سٹور روم سے آواز دی
وہاں کیا کر رہی ہو۔ کچھ نہیں پرانی کتابیں دیکھ رہی تھی
اچھا ادھر آؤ ۔۔ زائرہ نے اسے اپنے پاس بلایا
جی آپی وہ پاس ا کر بولی
اب تمہیں بالکل پریشان ہونے کی ضرورت نہیں سب ٹھیک ہو جائے گا ان شاءاللہ ۔۔۔
مبارک ہو آپی۔ آئرہ پرجوش ہوئی۔ اللہ آپکو کامیاب کرے!!
اگلے دن صبح نماز پڑھ کر زائرہ اور آئرہ دونوں تیار ہونے لگتی ہیں آئرہ سکول کے لیے اور زائرہ جاب پر جانے کے لیے۔۔۔ ناشتہ کرنے کے بعد دونوں چلی گئ۔۔۔ راحیلہ بیگم گھر کے کام کرنے میں مصروف ہو گئیں۔۔۔
زائرہ کا جاب پر آج پہلا دن ہوتا ہے کافی نروس ہونے کے باوجود بھی اس نے ہمت نا ہاری اور بلڈنگ میں قدم رکھا
مال کے یونیفارم میں وہ کمفرٹ ایبل تھی ۔۔ کام سمجھانے میں ہیلپرز نے اسکی کافی مدد کی تھی اور زائرہ کافی حد تک کام سمجھ بھی گئی
راحیلہ بیگم کپڑے سی رہی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی دروازہ کھلا تو دیکھا ابراہیم صاحب تشریف لا رہے تھے مجھے آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے تم سے راحیلہ بیگم سے انہوں نے کہا
وہ پریشان ہوئیں کہ کیا بات کرنی ہو گی
دیکھو راحیلہ امام صاحب رہے نہیں اب اور تمہاری دونوں بچیاں جوان ہیں ایسے اکیلے کیسے رہو گے تم لوگ یہاں میں تو کہتا ہوں میرے گھر آ جاؤ اکیلی عورتیں اکیلے گھر میں رہیں یہ سیف نہیں اور ویسے بھی تم گھر اکیلی ہوتی ہو اور بیمار بھی ہو کچھ ہو گیا تو؟؟؟ وہ فکر مند تھے
راحیلہ بیگم چپ کر کے اپنے بھائی کی بات سن رہی تھی کہ یکدم ابراہیم صاحب نے زائرہ کا پوچھا۔۔ زائرہ کہاں
وہ۔وہ نوکری پر ۔۔
کیسی نوکری؟؟ ابراہیم صاحب نے حیرت سے پوچھا
بھائی وہ ایک کمپنی میں سیلر کا کام کرتی ہے آج پہلا ہی دن ہے۔۔۔ ابراہیم صاحب سمجھ نہیں پائے کہ اسے نوکری کرنے کی کیا ضرورت پڑ گئی میں کہہ کر تو گیا تھا جس حد تک ممکن ہو میں مدد کرونگا۔۔
اور جتنی ممکن نا ہو وہ کون پوری کرے گا ماموں؟؟؟
زائرہ پیچھے سے آتے ہوئے بولی۔۔ جو اچھی ڈیوٹی سے واپس آئی تھی ۔۔ آپ کے بھی بہت اخراجات ہیں ماموں اور کیا کیا ضروریات پوری کریں گے آپ ۔۔ ہمیں خود بھی کچھ نا کچھ کرنا تھا اور وہ میں کر رہی ہوں ۔ آپکے پہلے بھی ہم پر بہت احسانات ہیں کچھ بوجھ ہمیں بھی اٹھانا سیکھنے دیں۔۔ ابراہیم صاحب زائرہ کی بات سن کر چپ ہو گئے ۔۔
تم لوگ میرے گھر چلو میں تم لوگوں کو یوں تنہا نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔
سب زمہ داریاں آپ پر ہی کیوں؟؟؟ ہمارے ددیال والے بھی ہیں یہ ہمارے پاپا کا گھر ہے اور اسے چھوڑ کر ہم کہیں نہیں جائیں گے اور رہ گئی بات اکیلی عورتوں کی تو تایا تائی کا گھر ساتھ والی گلی میں ہی ہے کبھی تو کچھ تو خیال کریں گے ہی۔۔۔ کہہ کر زائرہ اندر چلی گئی اور ابراہیم صاحب بنا کچھ بولے وہاں سے چلے گئے۔۔۔۔
راحیلہ بیگم کمرے میں داخل ہوتے ہی زائرہ کو سنانے لگی۔۔ ابھی تو یہ سب نا کہتی ۔۔۔
ابھی نا کہتی تو کبھی نا کہتی۔۔۔!!!
یہی سہی موقع تھا اور میں نے کہہ دیا
آپ بھی پریشان ہونا چھوڑ دیں!!!
دن گزرتے گزرتے ایک ماہ گزر گیا اور زائرہ کے رزلٹ آنے میں صرف سات دن رہ رہے تھے زائرہ ائرہ کو سکول چھوڑنے کے بعد بس سٹاپ کا رخ کرتی ہے اور کمپنی پہنچ کر اندر مال میں جا کر اپنی ڈیوٹی دے رہی ہوتی ہے کہ ایک کسٹمر اس سے کسی cosmetics کا پوچھ رہا تھا کہ زائرہ کو کسی کی نظروں کی تپش خود پر محسوس ہوئی اس نے نظریں اٹھا کر ادھر ادھر دیکھا مگر کوئی نا تھا وہ پھر سے کسٹمر کو ہدایات دے رہی ہوتی ہے کہ پھر سے کسی کی نظریں اسے دیکھ رہی ہوتی ہیں اور اب اس نے اپنا وہم سمجھ کر اسے اگنور کیا۔۔۔ مسلسل تین چار دن سے زائرہ یہی محسوس کرتی ہے جب نظریں جھکائے تو کوئی اسے مسلسل دیکھتا ہے اور جب وہ نظریں اٹھا کر دیکھے تو ہر کوئی اپنے اپنے کاموں میں مصروف نظر آتا ہے ۔۔۔
گھر جاتے ہی اسکی نظر سامنے بیٹھی ائرہ کے ساتھ کائنات پر پڑی اسنے آگے ہو کر سلام کیا اور کائنات سے ملی
کیسی ہو کائنات ؟؟
میں ٹھیک اور تم کیسی ہو؟؟
میں ٹھیک ہی ہوں زائرہ تھکے سے لہجے میں بولی۔۔اس نے سانس لے کر بتایا
خیر تم بتاؤ آج کیسے آنا ہوا ؟؟ رزلٹ کا بتانے آئی تھی کائنات نے رخ موڑ کر زائرہ کو بتایا جو ائرہ سے باتوں میں لگی ہوئی تھی ۔۔۔
ہاں یاررررررر۔۔۔ میں تو بھول ہی گئی تھی زائرہ نے جواب دیا ۔۔۔
چلو اللہ خیر کرے دیکھتے ہیں کیا بنتی ہے رزلٹ کی وہ فکر مند ہوئی۔۔۔
راحیلہ بیگم شام کا کھانا میز پر رکھا اور سب نے مل کر کھایا ۔۔۔۔ رات کافی ہو گئی تھی اسی لیے کاینات کو راحیلہ بیگم نے یہیں رکنے کا کہا اور صبح میں تمہیں چھوڑ آونگی اور بھائی بھابھی سے بھی مل لونگی کائنات نے بھی اس بات پر اتفاق کیا۔۔۔
آج زائرہ کو کام سے چھٹی تھی۔۔ راحیلہ بیگم اور کائنات کے جانے کے بعد زائرہ اپنے روم میں جا کر الماری سے اپنے کپڑے نکالتی ہے اور فریش ہونے چلی جاتی ہے آئرہ کو اپنی کتاب اٹھانے کمرے میں آئی تو زائرہ کو دیکھ کر رکی
آپی؟؟
زائرہ جو لائیٹس بلیو شرٹ کے ساتھ وائٹ کیپری پہنے گیلے بالوں کو سکھا رہی ہوتی ہے ۔۔۔
ہممم
آج آپ کافی دنوں بعد ریلیکس لگ رہی ہیں آئرہ نے زائرہ سے کہا
زائرہ نے پہلے ائرہ کو دیکھا اور پھر شیشے میں خود کو
ہاں آئری ریلیکس تو ہوں پر اب رزلٹ کی ٹینشن پھر سر پر ہے پتا نہیں کیا بنے گا؟؟ میں پڑھائی چھوڑ بھی نہیں سکتی جانتی تو ہو بابا کا خواب تھا کہ میں ڈاکٹر بنوں۔۔ اب تو وہ بھی نہیں ہیں جو ہمت دیں مجھے !! زائرہ کی آنکھیں بھیگی تھی۔۔۔
آپی آپکا رزلٹ اب تک بہت اچھا آتا رہا ہے اور آپ نے تیاری بھی تو بہت اچھی کی تھی ان شاءاللہ بہت اچھا رزلٹ آئے گا آپ پریشان نا ہوں ۔۔ ائرہ نے زائرہ کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور تسلی دی ۔۔۔
دونوں باتیں کر ہی رہی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔
جاؤ یار دیکھو باہر کون ہے۔۔۔ میں زرا بال سکھا لوں۔۔۔ زائرہ نے بال سکھاتے ہوئے کہا
ائرہ جیسے ہی دروازہ کھولتی ہے سامنے ملکوو کھڑا تھا جو کائنات کو لینے آیا تھا ۔۔۔
اسلام علیکم ملکو نے سلام کیا
ائرہ نے جواب دے کر دروازہ بند کیا۔۔۔
کائنات کو بلا دو ۔۔۔ ملکو نے کہا
پر وہ تو مما کے ساتھ گھر چلی گئی ہے مما کہہ رہی تھی کہ میں چھوڑ آتی ہوں اور مامی سے بھی مل لونگی
اچھا چلو ٹھیک ہے میں چلتا ہوں پھر۔۔۔
چائے تو پی لیتے ائرہ نے کہا۔۔۔
نہیں بس پھر کبھی ۔۔
پی لیں ورنہ مما ناراض ہونگی کہ ہم نے آپکو بنا کچھ کھلائے بھیج دیا ۔۔ ائرہ نے اسرار کیا
اچھا تو میرے کچھ نا کھانے پینے سے پھوپھو ناراض ہونگی
ہمممم یہ بات ہے تو پھر تو چائے پینی ہی پڑے گی۔۔۔۔
ائرہ نے ملکو کو کمرے میں بٹھایا اور جاتے ہوئے کہا
آپ بیٹھیں میں آپی کو چائے بنانے کا کہتے ہوں ۔۔۔۔۔
رکو ائرہ ۔۔۔
ملکو کی آواز پر وہ رک گئی ۔۔۔
آئرہ زائرہ آپی کو چائے کا کیوں کہنا ہے تمہیں چاہے بنانی نہیں آتی کیا؟؟؟
ائرہ کو اس پل شرمندگی سے ہوئی۔۔۔۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top