Khandarat Ka Khaufnak Raaz Aur Aayat-ul-Kursi Ka Karishma: Ek Sansani Khez Kahaani

یہ ایک سنسنی خیز اور خوفناک کہانی ہے آئی ٹی انجینئر ‘امان’ کی، جو دفتر کے پاس موجود ایک پرانے اور پراسرار چائے خانے میں چلا جاتا ہے۔ وہاں اس کا سامنا 17 ایسی روحوں سے ہوتا ہے جو ایک حادثے میں جاں بحق ہو چکی تھیں۔ دیکھئے کہ کس طرح ایمان اور آیت الکرسی کی برکت سے اس کی جان بچی۔

کھنڈرات کا خوفناک راز اور اللہ کی پناہ: ایک سنسنی خیز کہانی

امان ایک سافٹ ویئر کمپنی میں بطور آئی ٹی انجینئر کام کرتا تھا۔ وہ بہت پرہیزگار، باقاعدگی سے نماز پڑھنے والا اور اللہ کی یاد میں دل لگانے والا مسلمان تھا۔ اس کی زندگی سکون سے گزر رہی تھی کہ اچانک ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے اس کی دنیا بدل کر رکھ دی۔

اس کے دفتر سے کچھ فاصلے پر ایک پرانا چائے خانہ (کیفے) تھا۔ اس جگہ کی عجیب بات یہ تھی کہ وہاں بہت کم لوگ چائے یا کافی پینے آتے تھے۔ امان نے معلومات حاصل کیں تو پتہ چلا کہ یہ شہر کا سب سے قدیم چائے خانہ ہے، مگر اب نئے اور جدید کیفے بن جانے کی وجہ سے لوگ اسے بھول چکے ہیں اور صرف چند پرانے گاہک ہی وہاں جاتے ہیں۔ وہ جگہ مین مارکیٹ سے بھی تھوڑی دور تھی۔

ایک دن دفتر میں کام کے دوران باس نے تمام ملازمین کو اپنے کیبن میں بلایا اور افسردگی سے کہا: “پیارے ساتھیو! آج ہم یہاں ان لوگوں کی یاد میں جمع ہوئے ہیں جو ایک دردناک حادثے میں ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئے۔ کمپنی نے ان کی یاد منانے کا فیصلہ کیا ہے، لہٰذا ہم ان کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیے پانچ منٹ کی خاموشی اختیار کریں گے اور ان کے لیے دعائے مغفرت کریں گے۔” اسی میٹنگ کے دوران مینیجر نے ان مرحومین کی تصاویر بھی دیوار پر آویزاں کر دیں۔

شام کو جب چھٹی ہوئی تو سب اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے۔ امان شدید تھکن محسوس کر رہا تھا، اس لیے وہ ایک کپ گرم چائے کی تلاش میں اسی پرانے چائے خانے کی طرف چل پڑا۔ راستے میں اس کے ایک کولیگ ‘رضوان’ نے اسے روکا اور کہا: “امان! اس چائے خانے میں مت جاؤ، وہاں کوئی نہیں جاتا، وہ جگہ آسیب زدہ (جناتی) ہے!” امان نے مسکرا کر جواب دیا: “رضوان بھائی! آج کے سائنسی اور ٹیکنالوجی کے دور میں ایسی افواہوں پر یقین نہ کریں۔”

امان جیسے ہی چائے خانے میں داخل ہوا، اچانک تیز بارش شروع ہو گئی۔ اس نے سوچا کہ بارش رکنے تک چائے اور سنیکس کھا لیے جائیں۔ اندر کا ماحول عجیب اور خوفناک سا تھا۔ اس نے ایک میز پر بیٹھ کر بیٹر (Waiter) کو آواز دی۔

بیٹر کو دیکھتے ہی امان کے طوطے اڑ گئے! وہ وہی شخص تھا جس کی تصویر ابھی چند گھنٹے پہلے اس نے اپنے دفتر کی دیوار پر مرحوم ملازمین کے ساتھ لٹکی دیکھی تھی۔ امان نے خود کو سنبھالا، خاموشی سے چائے پی اور بل دینے کاؤنٹر پر پہنچا۔

کاؤنٹر پر بیٹھا شخص بھی وہی تھا جس کی تصویر دفتر میں موجود تھی۔ امان خوف کے مارے تیزی سے دروازے کی طرف بھاگا، لیکن ایک اور ملازم نے اس کا راستہ روک لیا۔ وہ بھی انہی مرحومین میں سے ایک تھا! اس نے بھاری اور خوفناک آواز میں کہا: “جناب! باہر بہت تیز بارش ہو رہی ہے، جب تک بارش نہ رکے، یہاں انتظار کریں۔ اس کے بعد آپ جا سکتے ہیں۔” امان نے کپکپاتی آواز میں کہا: “ج۔۔ جی بالکل، کیوں نہیں! میں انتظار کر لیتا ہوں۔” اور خوفزدہ ہو کر ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔

اسی لمحے امان کے فون پر رضوان کا واٹس ایپ میسج آیا۔ اس نے ایک لنک بھیجا تھا جو ایک پرانے اخبار کی خبر کا تراشہ تھا۔ اخبار میں وہی گروپ فوٹو چھپی تھی اور نیچے لکھا تھا:

“سافٹ ویئر کمپنی کی عمارت بنانے کے لیے ایک پرانے چائے خانے کو مسمار کیا گیا، لیکن لاپرواہی کے باعث 17 افراد ملبے تلے دب کر جاں بحق ہو گئے۔ شبہ ہے کہ یہ سب چائے خانے کے ملازمین تھے۔”

خبر پڑھتے ہی رضوان کی کال آ گئی: “امان! فوراً وہاں سے بھاگو! وہ سب کے سب مردہ لوگ ہیں، وہ جنات اور روحیں ہیں! بھاگو وہاں سے!” امان نے ڈرتے ہوئے کہا: “رضوان! باہر شدید بارش ہو رہی ہے، انہوں نے کہا ہے بارش رکنے پر چلا جاؤں۔” رضوان چیخا: “نہیں امان! پورا شہر خشک ہے، باہر کڑی دھوپ نکلی ہوئی ہے! کوئی بارش نہیں ہو رہی، وہاں سے فوراً نکلنے کی کرو!”

یہ سنتے ہی امان کا دل دہل گیا۔ اچانک اس نے دیکھا کہ وہ تمام سایہ دار وجود آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ امان نے فوراً آنکھیں بند کیں، ہاتھ اٹھائے اور سچے دل سے آیۃ الکرسی اور تسمیہ کا ورد شروع کر دیا۔

اچانک امان کے پیچھے سے ایک شدید، پاکیزہ اور روشن نور نمودار ہوا۔ اس نورانی تجلی کو دیکھ کر تمام روحیں اور سایے خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹنے لگے! لیکن امان نے اپنے جذبات پر قابو پایا اور آگے بڑھ کر ان سے کہا: “براہ کرم رک جائیے! میں آپ کو اپنا دشمن نہیں سمجھتا۔ میں اپنی کمپنی کا ملازم ہونے کے ناطے آپ سب سے معافی مانگتا ہوں۔ آپ لوگوں کے ساتھ جو ظلم ہوا وہ بہت برا تھا۔ میں آپ کے سامنے ہاتھ جوڑتا ہوں، براہ کرم ہمیں معاف کر دیں! ایک شخص کی غلطی کی سزا تمام معصوموں کو نہ دیں۔”

امان کی عاجزی اور سچائی دیکھ کر ان میں سے ایک بزرگ روح نے کہا: “امان! اس میں تمہاری کوئی غلطی نہیں، بلکہ تمہاری کمپنی کے مالک کی بے حسی نے ہماری اور ہمارے خاندانوں کی دنیا اجاڑ دی تھی۔ اس دن بھی ایسی ہی شدید بارش ہو رہی تھی جب یہ حادثہ ہوا۔ لیکن آج تم نے اللہ کی یاد اور سچی معافی سے ہمارے دلوں کو صاف کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اور ہمیں اس آزمائش سے نجات دی۔ اپنا خیال رکھنا، تم ایک نیک اور پاک دل انسان ہو۔”

یہ الفاظ کہتے ہی تمام سایے اور وہ چائے خانہ امان کی نظروں کے سامنے غائب ہو گئے!

باہر واقعی تیز دھوپ چمک رہی تھی۔ امان سجدہِ شکر میں گر پڑا۔ وہ جگہ اب صرف ایک خالی میدان تھی۔ یہ اس کی زندگی کا سب سے پرمغز اور خوفناک ترین تجربہ تھا، جسے یاد کر کے آج بھی اس کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top