Wo Kheil jo Kabhi nahi kheilna chahie tha

اگر تم نے کبھی اپنے علاقے کے لڑکوں سے کسی ایسے کھیل کے بارے میں سنا ہو جس میں رات کے اندھیرے میں کسی جوہڑ یا پرانی قبر میں جا کر لاش کو ہاتھ لگانا پڑتا ہے، تو خدا کے لیے وہ کھیل کبھی مت کھیلنا۔ میں مذاق نہیں کر رہا، سچ کہہ رہا ہوں۔ اس دنیا میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جن سے دور رہنا ہی عافیت ہے، اور یہ کھیل بھی انھی میں سے ایک ہے۔ کوئی تم سے کتنا ہی بڑا وعدہ کیوں نہ کرے، یا تمہیں اپنے دوستوں کے سامنے کتنا ہی بڑا “رستم” کیوں نہ بننا ہو—یقین مانو، اس کا انجام اتنا ہولناک ہے کہ تم سوچ بھی نہیں سکتے۔ کاش! مجھے بھی وقت سے پہلے کسی نے یہ بات سمجھائی ہوتی، تو آج میں اس عذاب سے نہ گزر رہا ہوتا۔

میں پنجاب کے ایک چھوٹے سے پسماندہ قصبے میں بڑا ہوا تھا۔ اگر تم نقشے پر اسے ڈھونڈنے نکلو گے، تو شاید کبھی نہ ڈھونڈ پاؤ، جب تک کہ کوئی مقامی بندہ تمہیں انگلی پکڑ کر وہاں نہ لے جائے۔ یہ ایک ایسا روایتی سا علاقہ تھا جہاں لڑکوں کے پاس وقت گزارنے کے لیے یا تو نہر پر نہانا ہوتا تھا، یا آم کے باغوں سے کیریاں توڑنا، یا پھر شام کے وقت دور ویران جھاڑیوں اور پرانے کھنڈرات کی طرف نکل جانا جہاں اکثر کوئی نہ کوئی خطرناک یا عجیب چیز مل جاتی تھی۔ ہمارے قصبے کے اردگرد پھیلے ہوئے گندے پانی کے جوہڑ اور پرانی نہریں اس علاقے کی رگوں کی طرح تھیں، جو ہر چیز کو اپنے اندر سموئے ہوئے تھیں۔ وہ پانی مٹیالا تھا، ساکت تھا، اور اپنے اندر ایسے گہرے راز چھپائے ہوئے تھا جن کا دفن رہنا ہی بہتر تھا۔

ہر چھوٹے شہر یا گاؤں کی اپنی کچھ عجیب و غریب کہانیاں ہوتی ہیں، اور ہمارے قصبے کا حال بھی کچھ مختلف نہیں تھا۔ کوئی کہتا تھا کہ رات کو قبرستان کی طرف عجیب روشنیاں چمکتی ہیں، تو کوئی کہتا تھا کہ پرانی شوگر مل کے پاس کسی نے چڑیل دیکھی ہے۔ لیکن ان سب کہانیوں میں ایک ایسا کھیل تھا جس کا ذکر سب سے خوفناک تھا، اور اس کا نام تھا “مردے کی جکڑ” (۔ یہ وہ نام تھا جس کے بارے میں ہر لڑکا دبی زبان میں بات تو کرتا تھا، لیکن کھل کر کوئی بھی اعتراف نہیں کرتا تھا کہ وہ اس کے بارے میں کچھ جانتا ہے—کم از کم تب تک نہیں، جب تک آپ کی عمر اتنی نہ ہو جائے کہ آپ پر “بھروسہ” کیا جا سکے۔

اس کھیل کے اصول جتنے سادہ تھے، اتنے ہی روح کانپانے والے تھے۔ شرط یہ تھی کہ تمہیں سب سے پہلے ایک ایسے گواہ کو ڈھونڈنا ہوتا تھا جو یہ کھیل پہلے خود کھیل چکا ہو۔ پھر، اس کی نگرانی میں، تمہیں رات کے بارہ بجے کے بعد قصبے کے سب سے پرانے اور بدنام جوہڑ پر جانا ہوتا تھا۔ تمہیں اس گندے اور یخ بستہ پانی کے اندر اترنا تھا، اور اس جوہڑ کی تہہ میں موجود ایک لاش کو ڈھونڈ کر اسے چھونا تھا۔ صرف چھونا نہیں تھا، بلکہ اپنے دونوں ہاتھ اس لاش کے سینے پر پورے ایک گھنٹے تک جمائے رکھنے تھے۔ کوئی بریک نہیں، ہاتھ پیچھے ہٹانے کی کوئی اجازت نہیں، اور کوئی بہانہ نہیں چلے گا۔ اگر تم سے ذرا سی بھی غلطی ہوئی یا خوف سے ہاتھ ہل گیا، تو تمہیں کھیل بالکل شروع سے دوبارہ کرنا پڑتا۔

کہانی یہ مشہور تھی کہ وہ لاش کبھی سڑتی نہیں ہے، چاہے اسے وہاں موجود ہوئے کتنی ہی دہائیاں کیوں نہ گزر گئی ہوں۔ لوگ سرگوشیاں کرتے تھے کہ وہ لاش شاید کسی پرانے زمانے کے بندے کی ہے، لیکن کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ کون تھا اور اس کا جسم اب تک محفوظ کیوں تھا۔ جن لڑکوں نے یہ کھیل کامیابی سے پورا کیا تھا، وہ قسمیں کھا کر کہتے تھے کہ اس لاش کو چھونے کے بعد ان کی تقدیر بدل گئی۔ کسی کی لاٹری نکل آئی، کسی کا کاروبار چمک گیا، اور کسی کو ہر آفت سے غیبی حفاظت مل گئی۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ، ان لوگوں کی کہانیاں بھی کم نہیں تھیں جو اس کھیل میں ناکام ہو گئے تھے—کہ کیسے وہ پاگل ہو گئے، یا اچانک غائب ہو گئے، یا پھر کسی ایسی ہولناک موت کا شکار ہوئے کہ دیکھنے والوں کے کلیجے منہ کو آ گئے۔

میں ہمیشہ ان باتوں کو دیسی اکھاڑے کے لڑکوں کا کوئی فضول قصہ سمجھتا تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ بڑے لڑکے صرف چھوٹے بچوں کو ڈرانے یا رات کو گھومنے سے باز رکھنے کے لیے یہ جھوٹ بولتے ہیں۔ میں اکثر اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر اس کا مذاق اڑاتا تھا اور کہتا تھا، “ہاں بھائی! جب گدھے کے سر پر سینگ نکلیں گے، تب میں بھی یہ کھیل کھیلوں گا۔” لیکن جیسے ہی میں تیرہ سال کا ہوا، میری دنیا بالکل بدل گئی۔

گرمیاں کی ایک حبس زدہ رات تھی، میں محلے کے لڑکوں کے ساتھ پرانی عیدگاہ کے پاس بنے کرکٹ گراؤنڈ میں بیٹھا ہوا تھا۔ وہ ان راتوں میں سے ایک تھی جب پسینہ بدن سے چپک جاتا ہے اور مچھر جان نہیں چھوڑتے۔ ہم ایسی ہی فضول باتیں کر رہے تھے کہ اچانک عاصم، جو ہم سب سے عمر میں بڑا تھا، تھوڑا قریب سرک آیا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی، اس نے دھیمی آواز میں پوچھا، “تم میں سے کسی نے کبھی ‘مردے کی جکڑ’ کے بارے میں سنا ہے؟”

اس کا یہ پوچھنا تھا کہ سب کے سب خاموش ہو گئے۔ ایک پل کے لیے ایسا لگا جیسے رات کے کیڑوں نے بھی بولنا بند کر دیا ہو۔

“ہاں، سنا ہے،” میں نے اپنے اندر کے خوف کو چھپاتے ہوئے بالکل عام سے لہجے میں کہا۔ “تو کیا ہوا؟”

عاصم کے چہرے پر ایک طنزیہ مسکراہٹ ابھری۔ “کیا تجھ میں اتنی ہمت ہے کہ یہ کھیل کھیل سکے؟”

میں نے جھوٹی ہنسی ہنستے ہوئے کہا، “کیا مطلب؟ کسی مرے ہوئے بندے کو ایک گھنٹے تک ہاتھ لگانا ہے؟ یہ تو کوئی مذاق لگتا ہے۔”

“یہ مذاق نہیں ہے،” عاصم کی آواز اچانک اتنی گبھیر اور سنجیدہ ہو گئی کہ میرا دل دھک سے رہ گیا۔ “یہ بالکل سچ ہے۔ اور اگر تم میں مردوں والا جگر ہے، تو ہم تمہیں آج ہی رات وہاں لے جا سکتے ہیں۔”

اب باقی لڑکے بھی اچھل پڑے، کچھ مجھے شہ دینے لگے اور کچھ کے چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگی تھیں۔ مجھے لگا جیسے سب نے مجھے گھیر لیا ہے اور ان کی نظریں مجھ سے کسی بڑے فیصلے کا تقاضا کر رہی ہیں۔ میں ان کے سامنے بزدل یا کمزور نہیں دیکھنا چاہتا تھا، لیکن جس انداز میں عاصم نے وہ بات کہی تھی، اس نے میری ریڑھ کی ہڈی میں ایک سرد لہر دوڑا دی تھی۔

“اگر میں نہ کھیلوں تو؟” میں نے اپنی آواز کو مستحکم رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے پوچھا۔

عاصم نے کندھے اچکائے۔ “کچھ بھی نہیں ہوگا۔ لیکن تم زندگی بھر یہی سوچتے رہ جاؤ گے کہ کاش اس رات ہاں کر دی ہوتی۔”

اس نے یہ بات ایسے کہی جیسے وہ کوئی ایسا راز جانتا ہو جو میرے جیسے عام لڑکوں کی سمجھ سے باہر تھا—ایک ایسا سحر جو صرف وہی دیکھ سکتے ہیں جو یہ کھیل کھیل چکے ہوں۔ بس، اس کی اسی بات نے میرے دماغ پر اثر کر دیا۔ یہ کسی دولت یا اچھی قسمت کا لالچ نہیں تھا، بلکہ یہ وہ خوف تھا کہ کہیں میں اپنے دوستوں کی نظر میں چھوٹا نہ رہ جاؤں یا کسی بڑے راز سے محروم نہ ہو جاؤں۔

میں نے گہرا سانس لیا اور سر ہلا دیا۔ “ٹھیک ہے۔ چلو پھر، آج رات ہی فیصلہ ہو جائے۔”

میرا ہاں کہنا تھا کہ لڑکوں نے شور مچا دیا، کوئی میری پیٹھ تھپتھپا رہا تھا تو کوئی مجھے ایسے مبارکباد دے رہا تھا جیسے میں نے کوئی جنگ جیت لی ہو۔ لیکن میرے اندر کا حال مختلف تھا۔ مجھے کوئی خوشی نہیں ہو رہی تھی، مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی چوہا خود اپنے پیروں سے چل کر پنجرے کی طرف بڑھ رہا ہو۔

عیدگاہ کے گراؤنڈ سے نکل کر ہم سب اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے تاکہ گھر والوں کے سونے کا انتظار کر سکیں۔ رات کے ٹھیک ڈیڑھ بجے، جب پورے قصبے پر قبرستان جیسا سکون طاری ہو چکا تھا، میں دبے پاؤں دیوار پھاند کر باہر نکلا۔ دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا جیسے سینے سے باہر نکل آئے گا۔

نہر کے کنارے بنے کچے راستے پر عاصم پہلے سے ہی باقی لڑکوں کے ساتھ موجود تھا۔ اس کے ساتھ سمیع، کامل، ماریہ اور زاہد کھڑے تھے۔ وہ سب مجھ سے ایک دو سال بڑے تھے اور ان کی صحبت میں بندہ خود کو زبردستی بہادر دکھانے کی کوشش کرتا تھا۔ ان کے پاس سستی سی چائنا کی ٹارچیں تھیں، کچھ نے اپنے ماسی کے تھیلوں میں بسکٹ اور پانی کی بوتلیں ٹھونس رکھی تھیں، اور ان کے چہروں پر وہ جھوٹی چودھراہٹ تھی جو ان کی آنکھوں کے پیچھے چھپے خوف کو چھپا نہیں پا رہی تھی۔

عاصم نے ایک کالی ٹارچ میری طرف بڑھائی۔ “تیار ہے نا چھوٹے؟”

میں نے بس سر ہلا دیا، لیکن میرے پیٹ میں جیسے مروڑ اٹھ رہے تھے۔

راستہ بہت تنگ تھا، جس کے دونوں طرف سرکنڈے اور جنگلی جھاڑیاں پھیلی ہوئی تھیں۔ رات کے اس پہر کسی سوکھے پتے کے ٹوٹنے کی آواز پر بھی میری جان نکل رہی تھی، لیکن باقی سب خاموشی سے قدم بڑھائے جا رہے تھے۔ ان کی ٹارچوں کی پیلی روشنیاں اندھیرے میں یوں لہراتی ہوئی چل رہی تھیں جیسے شیش ناگ کے سائے ہوں۔ کسی کے منہ سے ایک لفظ نہیں نکل رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے اس کام کی ہولناکی اب سب کے دماغوں پر اثر کر رہی تھی، ان پر بھی جو یہ کھیل پہلے کھیل چکے تھے۔

میں نے اس خوفناک خاموشی کو توڑنے کے لیے دھیمی آواز میں پوچھا، “یار عاصم، اسی جوہڑ پر کیوں؟ اس جگہ میں ایسا کیا ہے؟”

ماریہ نے چلتے چلتے مڑ کر مجھے دیکھا۔ “کیونکہ وہ وہیں رہتا ہے۔”

“وہ؟ وہ کون؟”

“وہی مردہ،” اس نے اتنے آرام سے کہا جیسے کسی عام چیز کا ذکر کر رہی ہو۔ “وہیں دیکھے گا تو خود ہی جان جائے گا۔”

اس کے اس جواب نے میرا منہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا۔

اچانک جھاڑیاں ختم ہوئیں اور وہ بدنامِ زمانہ جوہڑ ہمارے سامنے آگیا، جو رات کے اندھیرے میں کسی کالے شیشے کی طرح چمک رہا تھا۔ یہاں کی ہوا قصبے سے زیادہ ٹھنڈی تھی اور اس میں ایک عجیب سی سڑاند اور نمی تھی جو جسم کو چھوتے ہی کپکپی طاری کر دیتی تھی۔ عاصم نے اپنی ٹارچ کی تیز روشنی اس ساکت، کالے پانی پر ماری۔ روشنی پانی کی سطح کو تو چیر گئی، لیکن نیچے کا کچھ پتا نہیں چل رہا تھا۔

عاصم میری طرف گھوما، اس کے چہرے پر اب کوئی مذاق نہیں تھا۔ یہاں تک کہ کامل، جو ہر وقت جگتیں مارتا رہتا تھا، بالکل گم صم کھڑا تھا۔

“پہلا اصول،” عاصم نے سرگوشی میں بات شروع کی، “یہ کھیل صرف رات کے اس پہر ہو سکتا ہے، کوئی دوسری رعایت نہیں ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب وہ۔۔۔ بیدار ہوتا ہے۔”

میں نے بمشکل اپنے حلق میں اترا ہوا تھوک نگلا۔ “بیدار؟ مطلب کیا ہے تمہارا؟”

“وہ تمہیں خود پتا چل جائے گا،” عاصم نے میرے سوال کو جھٹک دیا۔ “دوسرا اصول: تمہارے دونوں ہاتھ ہر وقت اس لاش پر رہنے چاہئیں۔ ایک سیکنڈ کے لیے بھی ہاتھ پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ اگر رابطہ ٹوٹا، تو پورا ایک گھنٹہ دوبارہ شروع سے گنا جائے گا۔”

سمیع نے پیچھے سے لقمی دی، “اور یقین مانو، تم کبھی نہیں چاہو گے کہ تمہیں یہ دوبارہ کرنا پڑے۔”

“تیسرا اصول،” عاصم کہتا گیا، “وہاں ایک گواہ کا ہونا ضروری ہے جس نے یہ پہلے کیا ہو، اور وہ میں ہوں۔ اور چوتھا اصول۔۔۔ تم پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ ایک بار پانی میں اتر گئے تو کھیل پورا کر کے ہی نکلو گے۔ بزدلی کی یہاں کوئی معافی نہیں ہے۔”

جس سخت لہجے میں اس نے یہ آخری بات کہی، وہ کوئی نصیحت نہیں تھی بلکہ ایک سیدھی دھمکی تھی۔

“اگر میں بھاگ جاؤں تو؟” میری آواز میرے اپنے کانوں کو بھی بہت کمزور لگی۔

عاصم نے فوراً کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ بس اپنی گہری آنکھوں سے مجھے گھورتا رہا۔ “تم جاننا بھی نہیں چاہو گے کہ پھر کیا ہوتا ہے۔”

میں نے باقی لڑکوں کی طرف دیکھا کہ شاید کوئی میری حمایت میں بولے، لیکن وہ سب بت بنے کھڑے تھے، جیسے ان کے منہ پر تالے لگ چکے ہوں۔

اس سے پہلے کہ میں کوئی اور سوال کرتا، عاصم اور باقی لڑکوں نے اپنے شلوار پونچے اوپر کیے اور جوہڑ کے گندے پانی میں اترنا شروع کر دیا۔ پانی میری توقع سے کہیں زیادہ یخ تھا، جیسے برف کا پگھلا ہوا پانی ہو۔ وہ کائی زدہ پانی میری جینز اور جوتوں کو بھگوتا ہوا جیسے ہی میری کمر تک پہنچا، عاصم نے ہٹنے کا اشارہ کیا اور اپنی ٹارچ کا رخ جوہڑ کے بالکل بیچ کی طرف کر دیا۔

شروع میں مجھے کچھ نظر نہیں آیا، بس ٹارچ کی پیلی روشنی میں پانی کی ہلکی لہریں اٹھ رہی تھیں۔ لیکن پھر، وہ سامنے آیا۔

ایک شخص، جسے میں نے قصبے میں کبھی نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی لڑکوں نے کبھی اس کا ذکر کیا تھا، جوہڑ کے دوسرے کنارے کی کالی جھاڑیوں سے اس طرح رینگتا ہوا باہر نکلا جیسے وہ صدیوں سے وہیں ہمارا انتظار کر رہا ہو۔ وہ حد سے زیادہ لمبا اور سوکھا ہوا تھا، اس کا چہرہ بالکل چونا تھا اور اس کی آنکھوں میں کوئی چمک نہیں تھی، جیسے مردہ آنکھیں ہوں۔

میں نے گھبرا کر عاصم کو دیکھا کہ وہ بھی میری طرح ڈرا ہوا ہوگا، لیکن اس کے چہرے پر کوئی حیرت نہیں تھی۔ وہ بالکل پرسکون کھڑا تھا۔ اس کے انداز سے صاف پتا چل رہا تھا کہ وہ اسی غیبی رکھوالے کا انتظار کر رہا تھا۔

“یہ۔۔۔ یہ کیا ہو رہا ہے؟” میری ہمت جواب دے رہی تھی۔ “عاصم بھائی، تم بھی اس کو دیکھ رہے ہو نا؟ یہ کون ہے؟”

اس نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ مجبوراً مجھے دوبارہ اسی پراسرار وجود کی طرف دیکھنا پڑا۔ اس کے کپڑے پانی سے بالکل لت پت تھے اور اس کے ہڈیوں جیسے ڈھانچے سے چمٹے ہوئے تھے۔ اس کے چہرے پر ایک ایسی بھیانک اور لمبی مسکراہٹ تھی جسے دیکھ کر میرا کلیجہ منہ کو آنے لگا۔

“اس بار کون ہے؟” اس اجنبی نے پوچھا۔ اس کی آواز اتنی بھاری اور پھٹی ہوئی تھی جیسے پرانے کنویں کے اندر سے آ رہی ہو۔

عاصم ایک طرف ہٹا اور میری طرف اشارہ کیا۔ “یہ ہے وہ لڑکا۔”

اس نے سر ہلایا اور بہت دھیرے دھیرے، بغیر پانی ہلاوے میری طرف بڑھنا شروع کیا۔ پانی اس کے جسم کے گرد ایسے خاموش تھا جیسے وہ پانی کو نہیں بلکہ پانی اسے چھونے سے ڈر رہا ہو۔ جب وہ میرے بالکل پاس پہنچا، تو اس نے اپنی ہڈیوں جیسی انگلیوں والا ہاتھ آگے بڑھایا۔

میں ہچکچایا، لیکن عاصم نے پیچھے سے میری کمر پر ہاتھ مارا۔ “پکڑو اسے۔”

میں نے جیسے ہی اس کا ہاتھ تھاما، میری روح تک کانپ گئی۔ اس کا ہاتھ اتنا ٹھنڈا اور سخت تھا جیسے میں نے کسی جمی ہوئی برف کی سلی کو پکڑ لیا ہو۔ اس نے مضبوطی سے میری کلائی جکڑی اور مجھے جوہڑ کے اس حصے کی طرف لے گیا جہاں پانی گہرا اور کالا تھا۔ اس کا دوسرا ہاتھ میرے کندھے پر تھا تاکہ میں گر نہ جاؤں۔

“بالکل مت ہلنا،” اس نے اچانک رکتے ہوئے کہا۔

اور پھر، اس نے اپنا پورا بازو اس سیاہ پانی کے اندر غرق کر دیا۔

اس وقت جوہڑ سے جو آواز آئی، اس نے میرے سینے کو جکڑ لیا—پانی کے اندر سے کسی چیز کو گھسیٹنے کی ایک دھیمی، لیس دار اور گھٹن بھری آواز آئی۔ ایک پل کے لیے کچھ نہیں ہوا، اور پھر اس نے زور لگایا، اور وہ لاش پانی کی سطح پر تیرنے لگی۔

اس اجنبی نے پورے زور سے اس مردے کو کالے پانی سے اوپر کھینچا۔ میں نے نہ جانے کیا سوچ رکھا تھا—شاید کوئی گلی سڑی لاش یا ہڈیوں کا ڈھانچہ—لیکن یہ چیز ویسی نہیں تھی۔

وہ جسم بالکل ثابت تھا۔ اس کی جلد کا رنگ نیلاہٹ مائل سفید تھا اور وہ اتنی سخت اور چمکیلی تھی جیسے اسے موم کے اندر ڈبو کر نکالا گیا ہو۔ اس کے کپڑے کسی پرانے دور کے تھے—ایک عجیب سا کرتا اور لنگی جو پانی سے گیلی ہو کر اس کے سینے سے چپکی ہوئی تھی۔ اس کی آنکھیں بند تھیں، منہ ہلکا سا کھلا ہوا تھا، اور اس کے سر کے کالے، گھنے بال پانی کی وجہ سے اس کے چہرے پر پھیلے ہوئے تھے۔

“یہ۔۔۔ یہ سڑتا کیوں نہیں ہے؟” میں نے کانپتی ہوئی آواز میں سرگوشی کی۔

“یہ کبھی نہیں سڑتا،” عاصم کی آواز پیچھے سے آئی۔ اس کی آواز بہت دور سے آتی ہوئی لگی، جیسے وہ خود اس چیز کے زیادہ قریب نہیں آنا چاہتا تھا۔

اس پراسرار محافظ نے—جس کا نام مجھے آج تک معلوم نہیں ہو سکا—اپنے دونوں ہاتھ اس لاش کے بازوؤں کے نیچے ڈالے اور اسے پانی میں سیدھا کھڑا کر دیا۔ جوہڑ کا گندا پانی اس مردے کے پیٹ سے ٹکرا رہا تھا، اور اس ہولناک خاموشی میں صرف پانی کی یہی ایک آواز تھی۔

“آگے بڑھو،” اس نے حکم دیا۔

میرے پیر جیسے زمین میں دھنس چکے تھے۔ میرا پورا وجود چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ بھاگ جاؤ، اس منحوس پانی سے نکلو اور کبھی مڑ کر مت دیکھنا۔ لیکن عاصم میرے پیچھے کھڑا تھا، اور جب میں نے مڑ کر دیکھا تو اس کا چہرہ سخت تھا۔ اب پیچھے ہٹنے کا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔

میں نے کانپتے ہوئے قدموں سے ایک قدم آگے بڑھایا، اور اس خوفناک نگران نے میرے دونوں ہاتھ پکڑ کر اس مردے کے ٹھنڈے سینے پر رکھ دیے۔

جیسے ہی میری ہتھیلیاں اس لاش سے ٹکرائیں، مجھے اپنی زندگی کے اس سب سے بڑے فیصلے پر رونے کا دل کیا۔

اس کی جلد برف سے زیادہ ٹھنڈی تھی، لیس دار لیکن اندر سے پتھر کی طرح سخت۔ میرا جی متلانے لگا اور میں نے اپنے دانتوں کے نیچے زبان دبا لی تاکہ وہاں الٹی نہ کر دوں۔

“دونوں ہاتھ جمائے رکھو،” اس نے کہا۔

میں نے اپنا دوسرا ہاتھ بھی اس کے سینے پر جما دیا، میری دونوں ہتھیلیاں اس کے دل والی جگہ پر تھیں۔ جوہڑ کا پانی ہمارے گرد ہل رہا تھا، اور خدا کی قسم! مجھے ایسا لگا جیسے اس مردے کے سینے کے اندر کچھ ہلکا سا سرکا ہو۔

“ہاتھ یہیں رہیں،” اس نے دوبارہ تاکید کی۔ “چاہے کچھ بھی ہو جائے، ہاتھ نہیں ہٹنا چاہیے۔”

میں نے ڈر کے مارے بس سر ہلا دیا۔

“تمہارا ایک گھنٹہ اب شروع ہوتا ہے!” عاصم نے کنارے سے اونچی آواز میں کہا۔

شروع کے چند منٹ تو موت جیسی خاموشی میں گزرے۔ لاش بالکل ساکت تھی، لیکن اسے چھونے کا وہ احساس اتنا بھیانک تھا کہ برداشت سے باہر ہو رہا تھا۔ میرے ہاتھ ٹھنڈ کی وجہ سے بالکل سن ہو چکے تھے، اور میرے دماغ میں وہ تمام پرانی کہانیاں گھوم رہی تھیں جو میں نے جنوں، بھوتوں اور غیبی ساہوں کے بارے میں سن رکھی تھیں۔

میں نے اپنا دھیان بٹانے کے لیے اردگرد کی آوازوں پر توجہ دینے کی کوشش کی—نہر کے مینڈکوں کی ٹر ٹر، جھینگروں کی آوازیں، اور سرکنڈوں میں ہوا کی سرسراہٹ۔ لیکن اس جوہڑ کی خاموشی اتنی بھاری تھی کہ ہر چھوٹی آواز بھی میرے کانوں کے پردے پھاڑ رہی تھی۔

اور پھر، وہ سرگوشیاں شروع ہوئیں۔

پہلے مجھے لگا کہ یہ شاید سرکنڈوں سے گزرنے والی ہوا ہے۔ لیکن میں غلط تھا۔ وہ واضح الفاظ تھے، بہت مدہم، بھاری اور غراہٹ جیسے، جو کسی ایسی زبان میں بولے جا رہے تھے جو نہ اردو تھی نہ پنجابی۔ وہ کوئی ایسی بولی تھی جو انسانوں کی نہیں تھی۔ وہ آوازیں جوں جوں صاف ہو رہی تھیں، میرا دماغ اتنا ہی سن ہو رہا تھا کیونکہ میں ان کا ایک لفظ بھی نہیں سمجھ پا رہا تھا۔

میں نے اس پراسرار نگران کی طرف دیکھا، لیکن اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا۔ اس کی سفید آنکھیں بغیر جھپکے اس لاش پر ٹکی ہوئی تھیں۔

“تمہیں۔۔۔ تمہیں یہ آوازیں آ رہی ہیں؟” میں نے ہکلاتے ہوئے پوچھا۔

اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔

میرے ہاتھوں کی نسیں اب کھینچنے لگی تھیں، اور میں نے پانی میں توازن برقرار رکھنے کے لیے اپنے پیروں کا رخ بدلا۔ جیسے جیسے منٹ گزر رہے تھے، وہ سرگوشیاں تیز اور غصیلا ہوتی جا رہی تھیں۔ وہ آوازیں اس نگران کی تھیں نہ کنارے پر کھڑے عاصم کی۔۔۔ وہ آوازیں اس لاش کے اندر سے نکل رہی تھیں۔

“بالکل سیدھے کھڑے رہو!” اس نے اچانک کڑک دار آواز میں کہا، اور اس کی آواز نے ان سرگوشیوں کو ایک پل کے لیے دبا دیا۔

میں وہیں جم گیا۔

جب آدھا گھنٹہ گزر گیا، تو اچانک کچھ بدلا۔ وہ لاش ہلنے لگی۔

پہلے تو یہ بہت معمولی سا تھا—میرے ہاتھوں کے نیچے اس کے سینے کا گوشت ایسے پھڑپھڑایا جیسے کوئی عضلہ حرکت کرتا ہے۔ میں نے اپنے دل کو سمجھایا کہ یہ میرا وہم ہے، اس یخ پانی، اندھیرے اور خوف کی وجہ سے میرا دماغ مجھ سے جھوٹ بول رہا ہے۔

لیکن پھر وہ دوبارہ ہلی، اور اس بار حرکت تیز تھی۔ اس کا سینہ ہلکا سا اوپر اٹھا، جیسے کوئی گہرا سانس لیتا ہے۔

میں بری طرح گھبرا گیا اور جھٹکے سے اپنے دونوں ہاتھ پیچھے کھینچ لیے۔

“نہیں!” وہ نگران اتنی زور سے چلایا کہ مجھے یقین نہیں آیا کہ کسی انسان کی ایسی آواز ہو سکتی ہے۔ “ہاتھ دوبارہ وہیں رکھو! ابھی!”

میرا دل حلق میں دھڑک رہا تھا، میں نے روتے ہوئے اپنے ہاتھ دوبارہ اس مردے کے سینے پر مارے۔ اس بار وہ جسم اور بھی زیادہ ٹھنڈا، بھاری اور ایسا لگا جیسے وہ خود میری طرف جھک رہا ہو۔

“اب اگر ہاتھ ہٹا، تو انجام بہت برا ہوگا،” اس نے غرا کر کہا۔

عاصم کی آواز کنارے سے گونجی، “تیرا وقت دوبارہ شروع سے شروع ہو گیا ہے! لگے رہو!”

میرا دل چاہا کہ میں چیخ کر اسے گالیاں دوں، اسے بتاؤں کہ میں مر رہا ہوں، لیکن اس نگران کی ان سفید آنکھوں کے خوف نے مجھے وہیں کیل کر دیا تھا۔ اب بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔

یہ دوسری کوشش پہلے سے بھی زیادہ ہولناک تھی۔

وہ سرگوشیاں اب باقاعدہ چیخوں میں بدل رہی تھیں، جیسے ہوا کے دوش پر سینکڑوں روحیں میرے دماغ میں گھستی جا رہی ہوں۔ میں نے اپنی آنکھیں زور سے بند کر لیں تاکہ کچھ دکھائی نہ دے، لیکن وہ بھیانک آوازیں میرے مینو میں اتر چکی تھیں۔ وہ لاش مسلسل اندر ہی اندر تڑپ رہی تھی، اس کی چھوٹی چھوٹی حرکتیں میری جلد کو جھلسا رہی تھیں۔

ایک لمحے پر مجھے لگا کہ اس کی جمی ہوئی انگلیاں میری کہنی سے ٹکرائی ہیں، اور میری چیخ نکلنے ہی والی تھی۔ میرے پیر کانپ رہے تھے اور میں نے اپنے دانت اتنی زور سے بھیچ رکھے تھے کہ مجھے لگا وہ ٹوٹ جائیں گے۔

“بس تھوڑا سا وقت اور،” اس نگران نے کہا۔ “چاہے کچھ بھی ہو، اب ہاتھ مت چھوڑنا۔”

میں کوئی جواب نہیں دے سکا۔ مجھ میں اتنی سکت ہی نہیں تھی۔

جب عاصم نے آخر کار زور سے آواز لگائی، “وقت پورا ہو گیا!” تو مجھے یقین ہی نہیں آیا۔ مجھے لگا جیسے وہ ایک گھنٹہ صدیوں پر محیط تھا۔

اس پراسرار نگران نے میرے لرزتے ہوئے ہاتھوں کو اس لاش سے الگ کیا، اور جیسے ہی میرا رابطہ ٹوٹا، میں نے زندگی کا سب سے گہرا سانس لیا۔ میں حواس باختہ حالت میں، لڑکھڑاتا ہوا کنارے کی طرف بھاگا، گندے پانی میں میرے پیر میرا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔

وہ نگران میرے پیچھے نہیں آیا۔ وہ اسی مردے کے ساتھ وہیں کھڑا رہا، اور اس کی وہ سفید، بے نور آنکھیں مجھے تب تک گھورتی رہیں جب تک میں کنارے پر اپنے دوستوں کے پاس نہیں پہنچ گیا۔

“مبارک ہو چھوٹے،” عاصم نے میری کانپتی ہوئی پیٹھ پر ہاتھ مارا۔ “تو نے کر دکھایا!”

لیکن میرے اندر کوئی خوشی نہیں تھی، مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے میں نے کوئی شرط نہیں جیتی، بلکہ اپنی زندگی کا سودا کر آیا ہوں۔

میں ابھی پانی سے باہر نکل ہی پایا تھا، میرے پیر بری طرح کانپ رہے تھے اور سانس سینے میں اٹک رہی تھی، کہ اگلے لڑکے نے اپنا قدم آگے بڑھا دیا۔ وہ زاہد تھا، اور اس کے چہرے کو دیکھ کر صاف پتا چل رہا تھا کہ وہ یہ کھیل بالکل نہیں کھیلنا چاہتا۔ اس کا رنگ اڑا ہوا تھا اور ہونٹ سختی سے بند تھے، لیکن عاصم نے اس کی پیٹھ تھپتھپائی اور اس کے کان میں دھیمی آواز میں کچھ کہا۔ زاہد نے خوفزدہ نظروں سے عاصم کو دیکھا، اس کے ہاتھ بری طرح لرز رہے تھے لیکن پھر بھی اس نے جوہڑ کے کائی زدہ پانی میں قدم رکھ دیا۔

وہ پراسرار نگران اب بھی اسی طرح پانی میں کھڑا تھا، اور وہ نیلی لاش اس کے ساتھ پانی میں یوں سیدھی تیر رہی تھی جیسے کسی غیبی ڈوری سے بندھی ہو۔ اس نے زاہد کو اشارہ کیا کہ وہ پاس آئے۔ زاہد کے قدم وہیں رک گئے، وہ آگے بڑھنے سے کترانے لگا۔

“چلو زاہد، آگے بڑھو!” عاصم نے کنارے سے کڑک دار آواز میں کہا۔ “شرط طے ہوئی تھی ہماری۔”

زاہد نے مڑ کر ایک آخری بار ہم سب کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں التجا تھی، لیکن وہ آگے بڑھتا گیا۔ جب وہ اس مردے کے پاس پہنچا، تو اس نگران نے جھٹکے سے زاہد کی دونوں کلائیاں جکڑیں اور اس کے ہاتھ اس لاش کے موم جیسے سینے پر دبا دیے، بالکل اسی طرح جیسے میرے ساتھ کیا تھا۔

“ہلنا مت،” اس نگران نے بھاری اور بے رحم آواز میں کہا۔

زاہد نے روہانسا ہو کر بس سر ہلا دیا۔

شروع کے چند منٹ تو بالکل خاموشی میں گزرے۔ زاہد اپنے ہاتھ اس لاش پر جمائے وہیں کھڑا رہا، اس کے کندھے اکڑے ہوئے تھے اور وہ بہت تیز تیز سانس لے رہا تھا۔ عاصم اور باقی سب کنارے پر کھڑے بغیر کسی تاثر کے یہ سب دیکھ رہے تھے۔ میں بالکل خاموش تھا، میرے پیر اب بھی لوہے کی طرح بھاری اور سن تھے۔

لیکن پھر، وہ منحوس سرگوشیاں دوبارہ شروع ہو گئیں۔

مجھے زاہد کے چہرے پر خوف کے سائے صاف نظر آ رہے تھے—اس کی آنکھیں پاگلوں کی طرح اردگرد گھوم رہی تھیں، جیسے وہ یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو کہ یہ ہولناک آوازیں کہاں سے آ رہی ہیں۔ اس کی انگلیاں خوف کے مارے اس مردے کے سینے پر تھرتھرانے لگیں۔

“تم۔۔۔ تم لوگوں کو یہ آوازیں آ رہی ہیں؟” اس نے روتے ہوئے پوچھا۔

“صرف کھیل پر دھیان دو!” نگران نے اسے جھاڑ دیا۔

زاہد سہم گیا لیکن اس نے ہاتھ نہیں ہٹائے۔

وہ سرگوشیاں اب تیز ہوتی جا رہی تھیں اور زاہد کی آنکھوں میں پاگل پن بڑھ رہا تھا۔ وہ پانی کے اندر اپنے پیروں کو بار بار ہلانے لگا، اس کا توازن بگڑ رہا تھا۔

اور پھر، اس لاش نے حرکت کی۔

اس مردے کا پورا بازو اچانک جھٹکے سے ہلا۔ شروع میں یہ معمولی سا تھا، لیکن زاہد کو خوف سے مٹی کرنے کے لیے کافی تھا۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس لاش کو دیکھنے لگا، اس کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا جیسے وہ چیخنا چاہتا ہو لیکن حلق سے آواز نہ نکل رہی ہو۔

اگلے ہی سیکنڈ، اس مردے کی انگلیاں مڑیں اور انہوں نے حرکت کی۔

“نہیں! بس بہت ہو گیا!” زاہد نے بری طرح چلاتے ہوئے اپنا سر جھٹکا۔ “میں یہ کھیل نہیں کھیل رہا!”

“رک جاؤ!” وہ نگران غرا کر چلایا، لیکن زاہد اپنے ہاتھ پیچھے کھینچ کر پیچھے ہٹ چکا تھا۔

اسی پل، اس مردے کا نیلگوں ہاتھ پانی سے باہر نکلا اور اس نے زاہد کی کلائی کو مضبوطی سے جکڑ لیا۔

زاہد کی ایک ایسی بھیانک اور باریک چیخ نکلی جس نے میری روح تک فنا کر دی۔ اس نے اپنے پورے زور سے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچنے کی کوشش کی، لیکن اس مردے کی جکڑ لوہے کے शिकنجے جیسی تھی۔ وہ پراسرار نگران اس کی مدد کے لیے بالکل نہیں ہلا—وہ بس وہیں کھڑا، ایک دلی سکون اور خاموشی سے یہ تماشا دیکھتا رہا۔

“چھوڑو مجھے! خدا کے لیے چھوڑو!” زاہد نے روتے اور چلاتے ہوئے اپنی پوری جان لگا کر اپنا بازو پیچھے کی طرف کھینچا۔ ایک زوردار جھٹکے کے ساتھ اس مردے کی گرفت ٹوٹی، اور زاہد پیچھے کی طرف گندے پانی میں جا گرا۔ وہ حواس باختہ حالت میں دوبارہ کھڑا ہوا، اس کی آنکھیں خوف سے باہر کو ابل رہی تھیں۔

“میں نے کہا نا میں نہیں کھیل رہا!” وہ پاگلوں کی طرح چیختا ہوا کنارے کی طرف بھاگا۔ “میں مر جاؤں گا، میں یہ کبھی نہیں کروں گا!”

اس نگران کے چہرے پر ایک گہرا اندھیرا چھا گیا، لیکن اس نے کچھ نہیں کہا۔ زاہد پانی کو چیرتا ہوا کنارے پر آیا اور ہماری طرف دیکھے بغیر جنگل کے راستے پر بھاگ کھڑا ہوا۔

ہم سب وہاں بت بنے کھڑے رہ گئے، کسی میں ہلنے کی طاقت نہیں تھی۔ زاہد اندھیرے میں غائب ہو چکا تھا اور سرکنڈوں میں اس کے بھاگنے کی آوازیں دور ہوتی جا رہی تھیں۔ عاصم نے دانت پیستے ہوئے زمین پر تھوکا اور اپنا سر ہلایا۔

“اسے یہ غلطی نہیں کرنی چاہیے تھی،” ماریہ نے بہت دھیمی، کانپتی ہوئی آواز میں کہا۔

“اب۔۔۔ اب کیا ہوگا؟” میں نے پوچھا، میری آواز حلق میں ہی گھٹ کر رہ گئی۔

کسی نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔

وہ نگران آہستہ آہستہ جوہڑ کے بیچ کی طرف مڑا، اور وہ لاش ایک وفادار کتے کی طرح پانی میں اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگی۔ وہ نگران آہستہ آہستہ پانی کے اندر دھنستا گیا یہاں تک کہ اس کا سر بھی غائب ہو گیا، اور وہ گندا جوہڑ ایک بار پھر بالکل ساکت اور خاموش ہو گیا۔

“چلو یہاں سے،” عاصم نے سخت اور اکھڑے ہوئے لہجے میں کہا۔ “ہمارا کام ختم ہو گیا۔”

ہم نے خاموشی سے اپنی ٹارچیں سنبھالیں اور اس اندھیرے کچے راستے پر واپس چل پڑے۔ جو کچھ ابھی وہاں ہوا تھا، اس کا بوجھ ہوا میں صاف محسوس ہو رہا تھا، اور پورے راستے کسی نے ایک دوسرے سے بات کرنے کی ہمت نہیں کی۔


اگلے دن، مجھے پتا چلا کہ جب کوئی اس کھیل کے اصول توڑتا ہے، تو اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔

دوپہر کے وقت زاہد کی لاش قصبے سے ایک میل دور، نہر کے کنارے جھاڑیوں سے ملی۔ پولیس اور محلے والوں کا کہنا تھا کہ وہ نہر میں نہاتے ہوئے ڈوب گیا تھا، لیکن کہانی کے جوڑ کہیں سے مل نہیں رہے تھے۔ اس کا جسم بری طرح پھولا ہوا تھا، اور اس کی جلد کا رنگ نیلاہٹ مائل سفید تھا، بالکل ویسے ہی جیسے وہ کئی دنوں سے پانی کے اندر پڑا ہو۔ اور اس کا وہ بازو—جسے اس مردے نے جکڑا تھا—ایک عجیب اور خوفناک زاویے پر مڑا ہوا تھا، اور وہاں کی جلد پر کالے سیاہ انگلیوں کے نشانات بالکل واضح تھے۔

اسکول میں عاصم نے مجھے اکیلے میں بلا کر دیوار سے لگایا۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سی سختی تھی۔ “کل رات کے بارے میں کسی کو ایک لفظ بھی نہیں بتانا،” اس نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا۔ “کسی کو بھی نہیں، سمجھ گئے؟”

میں نے ڈر کے مارے فوراً سر ہلا دیا۔

قصبے میں زاہد کی موت کی افواہیں بہت تیزی سے پھیلیں، لیکن کسی ایک لڑکے نے بھی “مردے کی جکڑ” کا نام نہیں لیا۔ ہمارے گروپ کے لڑکے اسکول میں ایسے گھوم رہے تھے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو، لیکن میں ان کی آنکھوں میں وہ چھپا ہوا خوف دیکھ سکتا تھا۔ ہم سب سچ جانتے تھے، بھلے ہی ہم اسے زبان پر لانے سے ڈرتے تھے۔

اس رات میں سو نہیں سکا۔ جیسے ہی میں اپنی آنکھیں بند کرتا، مجھے اس مردے کا وہ نیلا ہاتھ زاہد کی کلائی کو جکڑتا ہوا نظر آتا۔ میرے کانوں میں اس کی آخری چیخیں، پانی کے چھپاکے اور وہ رات کی بدروحوں جیسی سرگوشیاں گونج رہی تھیں۔

میں اس نگران کے بارے میں سوچ رہا تھا، کہ وہ کیسے اس جوہڑ کے پانی میں ایسے غائب ہو گیا جیسے وہ خود اسی گندگی کا حصہ ہو۔ اور پھر مجھے زاہد کا وہ چہرہ یاد آتا جب وہ بھاگا تھا، جب اس نے اصول توڑا تھا۔

مجھے اس رات یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ اس کھیل سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ ایک بار جب آپ اس لاش کو ہاتھ لگا دیتے ہو، تو آپ زندگی بھر کے لیے اس جادو کے اسیر ہو جاتے ہو—چاہے آپ شرط جیتو یا ہارو۔

اگلے چند دن میں اپنے کمرے سے باہر نہیں نکل سکا۔ مجھ میں اتنی ہمت ہی نہیں تھی۔ جب بھی میں باہر قدم رکھنے کا سوچتا، میرے سینے میں ایک عجیب سا دباؤ بڑھنے لگتا اور پیر جیسے فرش کے ساتھ چمٹ جاتے۔ میرے دماغ میں بار بار جوہڑ کا وہ پورا منظر کسی فلم کی طرح چل رہا تھا—اس مردے کی وہ نیلی، موم جیسی سخت جلد، وہ عجیب و غریب سرگوشیاں جو اب میرے دماغ کے اندر بیٹھ چکی تھیں، اور زاہد کی وہ آخری خوفناک چیخ جب اس چیز نے اس کا بازو دبوچا تھا۔

مجھے لگا تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ یہ خوف کم ہو جائے گا، لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ حال اور برا ہوتا گیا۔ رات کو میں گھنٹوں جاگتا رہتا، چھت کو گھورتا رہتا اور میرے کان رات کے سناٹے میں ایسی آوازیں ڈھونڈنے کی کوشش کرتے جو وہاں نہیں تھیں۔ اب مجھے چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی ڈرانے لگی تھیں—کمرے کے کونوں میں موجود سائے مجھے ہلتے ہوئے محسوس ہوتے، اور جب میں دوسری طرف دیکھتا تو وہ غائب ہو جاتے۔ پرانے لکڑی کے دروازے کی چرچراہٹ پر بھی میری جان نکل جاتی۔ مجھے لگ رہا تھا جیسے کوئی اندھیرے میں بیٹھ کر مسلسل مجھ پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

میرے امی ابو سمجھ رہے تھے کہ میں زاہد کی اچانک موت کی وجہ سے صدمے میں ہوں، اور ان کا ایسا سوچنا بنتا بھی تھا۔ پورے قصبے میں ہر بندہ اسی بارے میں باتیں کر رہا تھا—کہ کیسے اس کی لاش نہر کے کنارے ملی، کیسے پولیس اسے ایک حادثہ سمجھ رہی تھی، اور ایک اتنے جوان لڑکے کا یوں چلے جانا کتنا بڑا حادثہ تھا۔ لیکن اصل سچ کیا تھا، یہ صرف میں جانتا تھا اور یہ سچ اندر ہی اندر مجھے کھائے جا رہا تھا۔

عاصم اور باقی لڑکے اسکول میں ایسے گھوم رہے تھے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ وہ ہنستے، مذاق کرتے اور عام دنوں کی طرح رہتے۔ لیکن جب کبھی میری نظر عاصم سے ملتی، تو مجھے اس کی آنکھوں میں بالکل وہی خوف نظر آتا جو میرے اپنے اندر تھا۔ اس نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی، لیکن اس کا انداز صاف کہہ رہا تھا: اس بارے میں بات مت کرنا، یہاں تک کہ اس بارے میں سوچنا بھی مت۔


اس واقعے کے کوئی ایک ہفتے بعد، چیزیں اچانک بدلنا شروع ہو گئیں۔

شروع میں یہ بہت معمولی سی باتیں تھیں۔ ایک دن اسکول سے واپس آتے ہوئے مجھے راستے میں پانچ سو کا بالکل نیا نوٹ پڑا ہوا ملا۔ اگلے دن ریاضی کا ایک ایسا سرپرائز ٹیسٹ ہوا جس کی میں نے کوئی تیاری نہیں کی تھی، لیکن میرے پورے نمبر آ گئے۔ محلے کا وہ کتا جو مجھے دیکھتے ہی بھونکتا تھا اور کاٹنے کو دوڑتا تھا، اب مجھے دیکھ کر دم ہلانے لگا اور چپ چاپ میرے پاس آ کر بیٹھ گیا۔

پہلے تو میں نے سوچا کہ یہ سب محض اتفاق ہے، لیکن یہ سلسلہ رکا نہیں۔

امی نے بازار کی ایک دکان سے خریداری کی تو وہاں قرعہ اندازی میں ان کا پہلا انعام نکل آیا—پچیس ہزار روپے کا نقد تحفہ۔ ابو کا وہ پرانا موٹرسائیکل جو پچھلے چھ مہینے سے خراب تھا اور کوئی مستری اسے ٹھیک نہیں کر پا رہا تھا، ایک صبح اچانک ایسے سٹارٹ ہوا جیسے بالکل نیا ہو۔ اور جہاں تک میرا تعلق تھا، میں جس چیز میں ہاتھ ڈالتا وہ سونا بن جاتی۔ اسکول کا کوئی کھیل ہو، کوئی کوئز ہو یا کوئی بھی چھوٹا موٹا کام—سب کچھ میری مرضی کے مطابق ہونے لگا۔

مجھے خوش ہونا چاہیے تھا۔ مجھے لگنا چاہیے تھا کہ اس رات جو عذاب میں نے جھیلا، یہ اس کا پھل ہے اور وہ سب کرنا وصول ہو گیا۔ لیکن مجھے کوئی خوشی نہیں ہو رہی تھی۔

وہ اچھی قسمت مجھے اپنی نہیں لگ رہی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے میں نے یہ کسی سے ادھار لی ہے، کوئی ایسی چیز جو عارضی ہے اور جسے کسی بھی وقت واپس چھینا جا سکتا ہے۔ اور بھلے ہی میرے ساتھ کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو رہا ہو، میرے دل کے اندر بیٹھا وہ خوف ایک انچ بھی کم نہیں ہوا تھا۔

ایک رات، میری آنکھ ایک عجیب سی آواز پر کھلی۔ وہ آواز زیادہ اونچی نہیں تھی—بس ایک دھیمی سی ٹک ٹک کی آواز تھی، جیسے کوئی اپنے ناخن کھڑکی کے شیشے پر مار رہا ہو۔

میں بستر پر بالکل جم گیا۔ میں نے بہت آہستہ سے اپنا سر گھمایا، یہ سوچ کر کہ شاید باہر کسی درخت کی ٹہنی شیشے سے ٹکرا رہی ہو گی یا کوئی پرندہ ہو گا۔ لیکن وہاں کچھ نہیں تھا۔

باہر صرف گہرا اندھیرا تھا۔

وہ ٹک ٹک کی آواز تو بند ہو گئی، لیکن وہ بھیانک احساس وہیں رہا۔ میں کئی گھنٹے اسی طرح بغیر ہلے جلے بستر پر لیٹا رہا، یہاں تک کہ کھڑکی کے پردوں سے صبح کی پہلی روشنی اندر آنے لگی۔

اگلے دن اسکول کے بعد میری ملاقات عاصم سے ہوئی۔ اس نے باقی لڑکوں سے بچ کر مجھے ایک طرف بلایا اور اپنی آواز بالکل دھیمی کر لی۔

“تم نے بھی محسوس کیا ہے نا؟” اس نے پوچھا۔

“کیا محسوس کیا ہے؟”

“یہی۔۔۔ کہ سب کچھ کتنا بدل گیا ہے۔”

میں تھوڑا ہچکچایا۔ “تمہارا مطلب وہ اچھی قسمت؟”

عاصم نے سر ہلایا۔ “ہاں۔ لیکن صرف وہی نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے اب ہر وقت کوئی ہمارے آس پاس موجود ہے، ہمیں دیکھ رہا ہے، کسی بات کا۔۔۔ انتظار کر رہا ہے۔”

میں یہ بات تسلیم نہیں کرنا چاہتا تھا، لیکن وہ بالکل سچ کہہ رہا تھا۔

“اب آگے کیا ہوگا؟” میں نے پوچھا۔

عاصم نے اپنے کندھے اچکائے۔ “اپنا منہ بند رکھو، اور اچھے کی دعا کرو۔”

“بس؟ صرف یہی کر سکتے ہیں؟”

“صرف یہی ہمارے بس میں ہے،” اس نے بہت سرد لہجے میں کہا۔ “تمہیں کیا لگتا ہے کہ تم نے وہ کھیل پورا کر لیا تو بات وہیں ختم ہو گئی؟ یہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔”

میں نے اس کی باتوں کو دماغ سے نکالنے کی بہت کوشش کی، لیکن وہ میرے اندر گڑھ گئیں۔ میں جہاں بھی جاتا، مجھے وہی بھاری پن محسوس ہوتا۔ جب سب کچھ بالکل ٹھیک بھی چل رہا ہوتا، تب بھی دل گواہی دیتا کہ کچھ بہت غلط ہونے والا ہے۔ ایسا لگتا تھا جیسے مجھے کسی ایسے گناہ کا انعام دیا جا رہا ہو جس کا میں حقدار نہیں تھا۔

پھر ایک دوپہر، میں نے ماریہ کو اسکول سے اکیلے گھر جاتے دیکھا۔ اس کا چہرہ بالکل پیلا تھا اور وہ بہت سہمی ہوئی لگ رہی تھی۔

“ماریہ!” میں نے اسے آواز دی اور بھاگ کر اس کے برابر آیا۔

وہ اچانک چونکی اور اس کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں۔ “کیا ہے؟”

“تم نے بھی وہ محسوس کیا ہے؟” میں نے دھیمی آواز میں پوچھا۔ “وہ۔۔۔ جو ہر وقت کوئی دیکھتا رہتا ہے؟”

اس نے بہت آہستہ سے سر ہلایا اور ڈرتے ڈرتے اپنے کندھے کے پیچھے دیکھا۔ “وہ نہیں رکتا۔ وہ ایک سیکنڈ کے لیے بھی نہیں رکتا۔”

“ہم کسی بڑے کو کیوں نہیں بتاتے؟” میں نے اس پر زور دیا۔ “اگر ہم اپنے گھر والوں کو یا۔۔۔”

“نہیں!” اس نے تڑپ کر میری بات کاٹی اور میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ “تم کسی کو کچھ نہیں بتاؤ گے۔ اس بارے میں سوچنا بھی مت۔ میری بات سمجھ رہے ہو نا تم؟”

اس کی آواز بری طرح کانپ رہی تھی، اور میں نے پہلی بار ماریہ کی آنکھوں میں آنسو دیکھے۔

“پر کیوں؟” میں نے پوچھا۔

“کیونکہ انہیں پتا چل جائے گا،” اس نے سرگوشی کی۔ “وہ تمہیں لینے آ جائیں گے۔ اور پھر تمہاری یہ اچھی قسمت تماشا بن جائے گی۔”

اس رات، میں نے خواب میں دوبارہ اسی جوہڑ کو دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ وہ لمبا نگران پانی میں کھڑا ہے اور اس کی وہ سفید آنکھیں سیدھی مجھ پر ٹکی ہوئی ہیں۔ وہ نیلی لاش اس کے بالکل پاس تیر رہی تھی، اس کا چہرہ میری طرف تھا اور اس کا کھلا ہوا منہ بغیر کسی آواز کے مسلسل ہل رہا تھا، جیسے وہ مجھے کچھ کہہ رہی ہو۔

میں پسیبنے سے لت پت اچانک جاگ اٹھا، اور وہ بھیانک سرگوشیاں اب بھی میرے کانوں میں گونج رہی تھیں۔

اگلی صبح، جب میں اسکول جا رہا تھا، مجھے راستے میں ایک بار پھر ہزار روپے کا نوٹ پڑا ہوا ملا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top